05/10/2023
*سیرت نبی ﷺ کی عصر حاضر میں معنویت و افادیت*
از مولانا ابوالحسن ندوی رح
*نبی کیا کام کرتا ہے جسکی وجہ سے اسکو اتنا بلند مقام ملتا ہے*
*وہ نوع انسانی کے لیے کیوں ضروری ہے*
دنیا میں چلتے لوگوں کے قافلے کے لئے یہ بات خطرے سے بھرپور کیوں ہے اگر اس سفر میں انہیں ایک پیغامبر ایک راہنما کی رہنمائی حاصل نہیں
اسکے لیے ایک کہانی دوبارہ سے سمجھیں۔ ایک بار چند نوجوانوں کو سیر کا خیال آیا، وہ دریا کے قریب ایک بستی میں رہنے والے تھے برسات کا موسم تھا انکو شوق ہوا کہ دریا کی سیر کرتے ہیں اور موسم کا لطف اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے ایک کشتی کرائے پہ لی اس پہ سوار ہوئے۔ بے تکلفی سے باتیں کرنے لگے، دریا بھی روانی پہ تھا انکی طبیعت پہ بھی موجوں کا اثر تھا۔ انہوں نے ملاح سے اسکی عمر پوچھی جو اس نے بتایا کی 60 سال ہے، ایک نوجوان نے پوچھا آپ نے کیا پڑھا ہے۔ ملاح نے کہا میری کیا اوقات ہے میں نے تو شروع سے بس کشتی چلائی ہے، مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا، اتنے میں ایک نوجوان نے پوچھا چچا آپ نے جغرافیہ پڑھا، بیچارے ملاح نے کہا میں نے تو اسکا نام ہی کبھی نہیں سنا، دوسرے نے پوچھا آپ نے ہسٹری پڑھی ہے،ملاح نے کانوں کو ہاتھ لگایا، ایسے ہی نوجوانوں نے جیومیٹری اور باقی مضامین کا پوچھا، ملاح بے چارے میں پریشانی اور شرمندگی میں سر جھکا دیا۔ جس پہ نوجوانوں نے کہا کہ چچا آپ نے تو اپنی آدھی عمر گنوا دی ہے۔ آپ نے کچھ کام نہیں کیا
اتنے میں دریا میں موجیں کچھ ہوا سے تیز ہوئیں کشتی ڈانواڈول ہوئی ادھر ادھر جھکنے لگی۔ ملاح کی جان پہ بن آئی لیکن خدا کو اسکی حالت پہ رحم آیا۔ اس نے کہا میں بھی ایک بات تم لوگوں سے پوچھتا ہوں
کہ تم سب نے یہ سب کچھ پڑھا ہے *کیا تیرنا بھی سیکھا ہے*
انہوں نے کہا نہیں سیکھا تو ملاح نے کہا جاو تم نے اپنی پوری عمر ڈبو دی
انہوں نے تو ملاح کو آدھی عمر کھونے کا کہا ملاح نے کہا کہ تم نے اپنی پوری عمر ڈبو دی ہے
اگر کشتی الٹ گئی تو میں تو ہاتھ پیر مار کر کنارے پہ چلا جاؤں گا دریا میرا گھر ہے میں اسکی مچھلی ہوں تم نے جو اتنے مشکل نام لیے اپنی تعلیم کے وہ تمہارے کیا کام آئیں گے۔
یہاں تو بس سیدھا سیدھا تیرنا ہی کام آئے گا۔ جسکو دریا عبور کرنے کا فن نہیں آتا اسکے اور کوئی علم اب کام نہیں آئے گا
حضرات!
ہماری پوری زندگی کی یہی مثال ہے۔ ہمارے تمام محسن، انسانی علوم کے ماہر بانی، دنیا کے دانش ور، فلسفی، حکیم، ڈاکٹر، ریاضی دان، سائنس دان
ان سب سے گزارش ہے اے انسانی عقل کے کمالات دکھانے والو، زمین کے خزانوں کو اگلوانے والو، آسمان کے تارے توڑنے والو، اے چاند پہ پہنچنے والو۔۔۔۔
*جان لو کہ تم سب خطرے میں ہو جب تک تمہیں وہ علم نہیں آتا جن پہ زندگی کی بنیاد ہے، جس کی وجہ سے یہ انسانی شیرازہ جمع ہے، وہ بڑے مقاصد جن کی وجہ سے دنیا قائم ہے، اور اگر تم نے وہ سب نہیں سیکھا جو پیغمبر سکھاتے ہیں اسکے علاوہ سب کچھ سیکھ لیا ہے*
تو اگر وہ فرد ہے تو وہ خطرے میں ہے اگر قوم ہے تو خطرے میں ہے، اگر تمدن ہے تو خطرے میں ہے، تہذیب ہے تو خطرے میں ہے، علمی مرکز ہے تو خطرے میں ہے، قیادت ہے تو وہ خطرے میں ہے۔
اگرچہ یہ مثال مقام نبوت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتی لیکن اسکو بیان کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ہمیں اپنی حقیقت کا علم نہیں، ہمیں علم نہیں زندگی کتنی وسیع کتنی نازک یے, اسکو گزارنا کتنا بڑی ذمہ داری ہے، زندگی کے دریا کو عبور کرنے کے لیے کن بنیادی حقیقتوں پہ ایمان لانے اور ان پہ مضبوطی سے قائم رہنے کی ضرورت ہے، انکی حفاظت کے لیے کیسے ایک دوسرے کے تعاون کی ضرورت ہے، پیغمبر بڑے بڑے دعوے نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں کہ زندگی کے دریا کو پار کرنے کا فن ہم سے سیکھا جائے۔ اگر یہ زندگی عزیز ہے اور اگر تم انسانوں کی طرح اس دنیا میں رہنا چاہتے ہو خالق کائنات کو سمجھنا چاہتے ہو اسکو راضی کرنا چاہتے ہو تو اسکے لیے ہم حاضر ہیں ہمیں خدا نے اسکے لیے معمور کیا ہے
نبی کریم ﷺ اور تمام انبیاء علیہم السلام کیا کام انجام دیتے تھے
ملاح کی مثال کو دوبارہ دیکھئے نوجوانوں نے لائبریریوں کی لائبریریاں اپنے دماغ میں اتار لیں فلسفے کے سمندر پی لیے لیکن یہ سب ملاح کے فن کے آگے بالکل بے وقعت انسان تھے انکی زندگی خطرے میں تھی، وہ سب کشتی پہ سوار تھے جو بس ملاح چلانا جانتا تھا، وہ اس فن سے ناشناس تھے
*نبوت کا کام نبی ہی جانتا ہے*
جتنے علوم کو لوگ دنیا میں مسخر کرتے ہیں حاصل کرتے ہیں اپنی زندگیاں لگاتے ہیں دنیا کے کتنے متضاد عناصر مثبت منفی قوتیں ایک مصالحت اور تعاون سے ساتھ ساتھ کیوں چل رہی ہیں ان میں ٹکراو کیوں نہیں ہوتا کوئی چیز اپنی حد سے آگے کیون نہیں بڑھتی
سب تکوینی علم کے پیچھے کونسی طاقت کارفرما ہے
نبی کا کام ہے کہ وہ اعلان کرے کہ اس عالم سے پرے بھی ایک دنیا ہے۔ خالق کائنات ہے.اسکی ذات اسکی صفات ہیں اسکا ایک طریقہ کار ہے
اگر ہم نے نبی کے بتائے گئے طریقے سے یہ سب نا سمجھا تو ہماری زندگی ختم ہو جائے گی اور یقینا ساری کی ساری اکارت جائے گی۔
مولانا ابوالحسن ندوی رح کی کتاب سے تلخیص شدہ