20/02/2026
*ینگو اور انڈرائیو انتظامیہ کے نام: ایک پرزور مطالبہ*
ہم ڈرائیورز ان کمپنیوں کا اہم ستون ہیں، لیکن موجودہ کرایہ نامہ ہماری معاشی تباہی کا باعث بن رہا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارا "معاشی قتل عام" بند کیا جائے, رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں درپیش مشکلات کی طرف انتظامیہ کی توجہ دلانا چاہتے ہیں۔
* *درج ذیل نکات پر فوری غور کیا جائے:*
* *بونس نہیں*، جائز کرایہ دیں: ہمیں عارضی بونس کا لالچ نہیں چاہیے، بلکہ فی سواری مناسب اور مستقل کرایہ چاہیے۔ جب کرایہ ہی لاگت سے کم ہو تو بونس کسی کام کا نہیں۔
* *سرمایہ ہمارا*، فائدہ سب کا کیوں؟: گاڑی ہماری ہے، پیٹرول ہم ڈلواتے ہیں، مینٹیننس کے اخراجات ہمارے ہیں اور موبائل و انٹرنیٹ بھی ہمارا۔ ان تمام اخراجات کے بعد کمپنی کو بھاری کمیشن دینا سراسر ناانصافی ہے۔
* *غلامی کا خاتمہ*: ہم پارٹنر ہیں، ملازم یا غلام نہیں۔ ہمیں اس بات پر مجبور نہ کیا جائے کہ ہم کتنے آرڈرز یا رائڈز مکمل کریں۔ کام کی مقدار کا فیصلہ کرنا ہمارا حق ہونا چاہیے۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کا احساس: پیٹرول اور گاڑی کے سپیئر پارٹس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ایسے میں پرانے یا کم ریٹس پر کام کرنا ڈرائیور کے لیے خودکشی کے مترادف ہے۔
* ہر ڈرائیور کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے عید کی شاپنگ کر سکے، لیکن موجودہ کم کرایوں میں ہم صرف پیٹرول اور کمیشن اور گاڑی کے کرائے کے پیسے ہی پورے کر پا رہے ہیں۔
ہمارا مطالبہ سادہ ہے: ہمیں محنت کا وہ صلہ دیا جائے جو عزت کے ساتھ گھر چلانے کے لیے کافی ہو۔
*ڈرائیوروں کا معاشی استحصال بند کرو!*
گاڑی ہماری، پیٹرول ہمارا، سڑکوں کی دھول اور ٹریفک کا عذاب ہمارا... لیکن بدلے میں ہمیں کیا ملتا ہے؟ صرف چند روپے جو گھر پہنچنے سے پہلے ہی پیٹرول پمپ اور کمپنی کے کمیشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔
* *رمضان کا مہینہ ہے*... ہر باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ افطاری پر بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھے، ان کے لیے عید کے نئے کپڑے خریدے۔ لیکن ینگو اور انڈرائیو کے ان "ظالمانہ ریٹس" نے ہمیں اپنی ہی نظروں میں گرا دیا ہے۔ ہم سارا دن سڑکوں پر خوار ہوتے ہیں تاکہ کمپنی کا بینک بیلنس بڑھے، اور ہمارے حصے میں صرف تھکن اور ادھورے خواب آئے۔
* *ہمیں بونس کا لالی پاپ نہیں، جائز کرایہ چاہیے!*
ہم پارٹنر ہیں، کوئی مشین نہیں کہ جسے جب چاہا جتنا چاہا چلا لیا۔ ہمیں بونس کی شرطوں میں نہ جکڑو، ہمیں وہ صلہ دو جو ہماری محنت کا حق ہے۔
* خدارا! ڈرائیوروں کا معاشی قتل بند کرو۔ ہماری محنت کا خون کر کے اپنا منافع نہ بناؤ۔ ہمیں اتنا تو دو کہ ہم بھی اپنے بچوں کے ساتھ عید منا سکیں۔