Malahim

Malahim Nukte nazar

05/01/2023

💕کسی کا آپ پر اعتبار کرنا آپ سے

محبت کرنے سے زیادہ قابلِ تعریف ہے 💕

27/12/2022

رسول اللہ ﷺ کے اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تھا تو حکم ہوتا کہ اس کیلئے تلبینہ تیار کیا جائے۔ پھر فرماتے تھے کہ تلبینہ بیمار کے دل سے غم کو اُتار دیتا ہے اور اس کی کمزوری کو یوں اتار دیتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کراس سے غلاظت اُتار دیتا ہے۔'' (ابن ماجہ)
رسول اللہﷺ نے حضرت جبرئیلؑ سے فرمایا کہ: جبرئیلؑ میں تھک جاتا ہوں۔ حضرت جبرئیلؑ نے جواب میں عرض کیا: اے الله کے رسولﷺ آپ تلبینہ استعمال کریں
آج کی جدید سائینسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو میں دودھ کے مقابلے میں 10 گنا ذیادہ کیلشیئم ہوتا ہے اور پالک سے ذیادہ فولاد موجود ہوتا ہے، اس میں تمام ضروری وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں
پریشانی اور تھکن کیلئے بھی تلبینہ کا ارشاد ملتا ہے۔
نبی ﷺ فرماتے کہ یہ مریض کے دل کے جملہ عوارض کا علاج ہے اور دل سے غم کو اُتار دیتا ہے۔'' (بخاری' مسلم' ترمذی' نسائی' احمد)
جب کوئی نبی ﷺ سے بھوک کی کمی کی شکایت کرتا تو آپ اسے تلبینہ کھانے کا حکم دیتے اورفرماتے کہ اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ تمہارے پیٹوں سے غلاظت کو اس طرح اتار دیتا ہے جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر صاف کرلیتا ہے
۔نبی پاک ﷺ کومریض کیلئے تلبینہ سے بہتر کوئی چیز پسند نہ تھی۔ اس میں جَو کے فوائد کے ساتھ ساتھ شہد کی افادیت بھی شامل ہوجاتی تھی۔ مگر وہ اسے نیم گرم کھانے' بار بار کھانے اور خالی پیٹ کھانے کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ (بھرے پیٹ بھی یعنی ہر وقت ہر عمر کا فرد اس کو استعمال کرسکتا ہے۔ صحت مند بھی ' مریض بھی)
نوٹ: تلبینہ ناصرف مریضوں کیلئے بلکہ صحت مندوں کیلئے بہت بہترین چیز ہے۔ بچوں بڑوں بوڑھوں اور گھر بھر کے افراد کیلئے غذا' ٹانک بھی' دوا بھی شفاء بھی اور عطا بھی۔۔۔۔خاص طور پر دل کے مریض ٹینشن' ذہنی امراض' دماغی امراض' معدے' جگر ' پٹھے اعصاب عورتوں بچوں اور مردوں کے تمام امراض کیلئے انوکھا ٹانک ہے۔

طبی فوائد:
طبی اعتبار سے اس کے متعدد فوائد بیان کئے جاتے ہیں-یہ غذا:
1۔غم ، (Depression)
2۔ مایوسی،
3۔ کمردرد،
4۔ خون میں ہیموگلوبن کی شدید کمی،
4۔ پڑهنے والے بچوں میں حافظہ کی کمزوری،
5۔ بهوک کی کمی،
6۔ وزن کی کمی،
7۔ کولیسٹرول کی زیادتی،
8۔ ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر لیول کے اضافہ،
9۔ امراض دل،انتڑیوں،
10۔ معدہ کے ورم،
11۔ السرکینسر،
12۔ قوت مدافعت کی کمی،
13۔ جسمانی کمزوری،
14۔ ذہنی امراض،
15۔ دماغی امراض،
16۔ جگر،
17۔ پٹھے کے اعصاب،
18۔ نڈھالی
19.وسوسے (Obsessions)
20. تشویش (Anxiety)

کے علاوہ دیگر بے شمار امراض میں مفید ہےاور یہ بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ جو میں دودھ سے زیادہ کیلشیم اور پالک سے زیادہ فولاد پایا جاتا ہےاس وجہ سے تلبینہ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

07/05/2022
08/11/2021

دو خاندان! پیسہ واپس لائیں تو زندگیاں آسان ورنہ؟

نوید مسعود ہاشمی

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ''دو خاندان پیسہ واپس لائیں … وعدہ کرتا ہوں کہ مہنگائی میں50 فیصد کمی کروں گا'' مطلب یہ کہ عمران خان ساری ریاستی طاقت رکھنے کے باوجود دو خاندانوں۔۔۔ سے پیسہ نکلوانے میں ناکام رہے، وزیراعظم کی ''دو خاندانوں'' سے مراد شریف اور زرداری خاندان ہیں۔۔۔۔
سوائے میاں محمد نواز شریف کے … ان دونوں خاندانوں کی اکثریت پاکستان میں اب بھی رہائش پذیر ہے، ان کے محلات اور جائیدادیں پاکستان میں بھی ہیں … نواز شریف، مریم نواز ، آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور عمران خان حکومت میں گرفتاریوں کے مزے بھی چکھ چکے ہیں ، لیکن اس کے باوجود حکومت اگر ان سے لوٹی ہوئی رقم سے ایک روپیہ بھی برآمد نہیں کرواسکی تو اس میں ''عوام'' کا کیا قصور ہے؟ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ یہ کتنے نااہل وزیراعظم ہیں کہ جو نہ دو خاندانوں سے لوٹی ہوئی رقم برآمد کرواسکے، نہ مہنگائی پر قابو پاسکے اور نہ ہی ''عوام'' کو کسی قسم کا ریلیف دے سکے۔
الٹا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ ''دو خاندان پیسہ واپس لائیں … وعدہ کرتاہوں کہ مہنگائی میں50 فیصد کمی کروں گا'' وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے دو خاندانوں کے بڑوں یعنی نوازشریف اور آصف زرداری کے پائوں پکڑ کر ان سے التجا کریں کہ ''خدا کے لئے پیسہ واپس لائو تاکہ وہ مہنگائی میں50 فیصد کمی کرسکیں، منت ترلوں، چندوں، زکوٰة ، صدقات اور خیرات مانگ مانگ کر۔۔۔ اگر شوکت خانم ہسپتال بن سکتا ہے ، یونیورسٹی بن سکتی ہے ، تو مہنگائی میں کمی کیوں نہیں لائی جاسکتی۔؟
اگر منت، ترلوں او ر خدا کے واسطے ڈالنے کے باوجود یہ دو خاندان پیسہ واپس لانے کے لئے تیار نہ ہوں... تو پھر حکومت کے وزراء کو چاہیے کہ وہ سر کے بالوں میں مٹی ڈالیں، اور تالیاں بجا بجاکر۔۔۔ کورس کے انداز میں گائیں کہ ''دو خاندانوں، پیسہ واپس لائو'' ''لائو ، لائو، پیسہ واپس لائو''ہم حکم دیتے ہیں ، پیسہ واپس لائو، شائد وزراء کی فوج ظفر موج کی یہ اجتماعی آہ و زاری ''دو خاندانوں'' پر اثر کر جائے۔۔
مہنگائی کے معاملے پر اگر حکومت کا دل پتھر کا بن سکتا ہے تو ۔۔۔۔حکومت پیسے کی برآمدگی کے لئے دو خاندانوں کی منت کیوں نہیں کرسکتی؟
شریف خاندان اور زرداری خاندان کی لوٹ مار کی وجہ سے نومبر2021 ء میں چینی ڈیڑھ سو روپے کلو ہوگئی … اگر دو خاندانوں کی کئی سال قبل کی جانے والی کرپشن اور لوٹ مار کی وجہ نومبر2021 ء میں پٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس ، ادویات اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں۔۔۔۔ کو آگ لگی ہے تو پھر اس لطیفے پر یہ لطیفہ کیسا رہے گا ''ایک باپ نے اپنے 6سالہ بیٹے کے ہاتھ میں چھوٹا سا پتھر دے کر کہا۔۔۔ کہ بیٹا درخت پر بیٹھی چڑیا کا شکار کرو، بیٹے نے ہاتھ گھما کر پتھر چڑیا کی طرف پھینکا تو چڑیا پُھر سے اُڑ گئی … یہ دیکھ کر بچے نے رونا شوع کر دیا ، ''باپ'' نے روتے ہوئے بچے کو سینے سے لگایا اور پیار سے کہا۔۔۔ بیٹا ، رونا بند کرو، یہ چڑیا گھر جاکر خود ہی مر جائے گی''۔
یہ بات ایک پاگل بھی جانتا ہے کہ قیمتوں میں۔۔۔ جس تیز رفتاری کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے ، عوام کی قوت خرید میں قطعاً اضافہ نہیں ہو رہا ، یہ بات بھی سب پر واضح ہے کہ چینی مافیا، آٹا مافیا، آج بھی وہی ہے کہ جو شریف اور زرداری کے دور حکومت میں تھی، جو تاجر مافیا پچھلے دور۔۔۔ حکومت میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈال رہی تھی ، وہ تاجر مافیا آج بھی قائم و دائم ہے، ذخیرہ اندوزی کرنے والی بدمعاش مافیا آج بھی سلامت ہے، عمران خان بتائیں کہ انہوں نے ان ''مافیائوں'' کے خلاف کون سا کارنامہ سرانجام دیا؟
یہ کہنا کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے۔۔۔ تاریخی جھوٹ ہے، عوام تو بجلی، گیس کے بلز سے لے کر چائے والی پتی اور ماچس کی ڈبی تک ، پر بھی ٹیکس ادا کرتے ہیں… ہاں وہ جو ٹیکس ادا نہیں کرتے وہ بڑے بڑے جاگیردار، سرمایہ دار، زمیندار، نواب، وڈیرے، خان ، گدی نشین اور قبائلی سردار سمجھے جاتے ہیں، جس طرح دو خاندانوں سے لوٹا ہوا پیسہ برآمد کروانا عوام کی ذمہ داری نہیں ہے، اسی طرح سرمایہ داروں، جاگیرداروں، وڈیروں، نوابوں اور گدی نشینوں سے ٹیکس۔۔ وصول کرنا بھی عوام کی ذمہ داری نہیں ہے،
عمران خان حکومت نہ جاگیرداروں، صنعت کاروں سے ٹیکس وصول کرسکی... اور نہ ہی دو خاندانوں سے لوٹا ہوا پیسہ برآمد کرواسکی، ہاں اس حکومت کے لئے سب سے آسان کام یہی تھا کہ... عوام کی جیبوں کو خالی کروایا جائے ، چنانچہ آئی ایم ایف کی چاکری میں حکومت اس حد تک آگے بڑھ گئی... کہ اب مہنگائی نے بھی ساری حدیں توڑ کر … غریب عوام کو رگڑے پہ رگڑے دینا شروع کر دیئے، پاکستان کی پچھلی حکومتیں ہوں یا عمران خان کی موجودہ حکومت، یہ تو اس حد تک پتھر دل ہیں۔۔۔ کہ اللہ کے گھروں یعنی مسجدوں میں بھی بجلی کے جو بل بھیجے جاتے ہیں۔۔۔ اس میں بھی ٹیلی ویژن فیس شامل ہوتی ہے، کوئی ان حکمرانوں سے پوچھے کہ آخر تم عوام سے کس چیز کا بدلہ لے رہے ہو، ٹماٹر دوسو روپے کلو، آلو70 روپے کلو، کدو اسی روپے کلو، مٹر دوسو پچاس روپے کلو، مرغی کا گوشت چار سو نوے روپے کلو ، بکری کا گوشت13 سو روپے کلو، بڑا گوشت7 سو سے آٹھ سو روپے تک کلو، دودھ150 روپے کلو اور عوام کی آمدن میں اضافہ زیرو، زیرو، زیرو، اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ۔۔۔ وزیراعظم سے لے کر وزیروں کی ''لاٹ'' تک۔۔۔ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے۔۔۔ کوئی بھارت کے ساتھ قیمتوں کا تقابلی جائزہ پیش کررہا ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ عوام کو ایک روٹی کھانی چاہیے اور کوئی فرماتا ہے کہ دنیا میں سب سے سستا پٹرول پاکستان میں ہے، شیخ رشید کی طرح اس حکومت کے سب سے ''سچے'' وزیر فواد چودھری فرماتے ہیں کہ ''بیشتر شوگر ملیں زرداری اور شریفوں کی ملکیت ہیں، ارے بھائی!اس راگ کو کب تک الاپتے رہو گے؟ آخر حکومت کس مرض کی دوا ہے؟ اگر زرداری اور شریفوں کی کسی شوگر مل میں کچھ غلط ہو رہا ہے تو اسے روکنا کیا عوام کی ذمہ داری ہے؟
ان وزیروں کی پریس کانفرنسیں اور تقریریں سن سن کر عوام ایک دوسر ے سے سوال کرتے ہیں کہ ''یہ بے چارے اگر اتنے ہی مجبور ، بے بس اور بے کس ہیں۔۔۔ کہ نہ تو شوگر مافیا کے چند بدمعاشوں کو قابو کرسکتے ہیں، نہ آٹا مافیا اور مہنگائی کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔۔۔ اور نہ ہی دو خاندانوں سے پیسہ برآمد کرواسکتے ہیں۔۔۔ تو پھر بے چاروں اور بے بسوں کی یہ فوج ظفر موج۔۔۔ قومی
خزانے پر بوجھ کیوں بنی ہوئی ہے ؟ ''سلیکٹرز'' کو چاہیے کہ وہ ان کی ''تشریفوں'' پر لات مار کر انہیں اقتدار سے نکال باہر کرے۔۔۔ اور ''عوام'' بھی کان کھول کر سن لیں کہ اگر انہیں اپنی حالت زار کو بدلنا ہے، قومی خزانے کی حفاظت کرنی ہے، مہنگائی کے سونامی او ر نااہل ''نکوں'' سے جان چھڑانا ہے۔۔۔ تو انہیں اب خود کچھ کرنا پڑے گا،
مجھے ذاتی طور پر تو حکومتی رٹ نہ منڈیوں میں نظر آتی ہے ، نہ بازاروں اور مارکیٹوں میں، ایک طوفان بدتمیزی برپا ہے، ہر طرف مہنگائی کا راج ہے اور پیسہ بڑے بڑوں کی تجوریوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

01/11/2021

نظر بد اتارنے کا طریقہ
سوال
برائے مہربانی نظر اتارنے کا اسلامی طریقہ بتادیں!

جواب
نظر بد سے حفاظت اور اس کا اثر ختم کرنے کے کئی طریقے احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتے ہیں :

1۔سورۂ فاتحہ ، آیۃ الکرسی ،معوذتین اور مندرجہ ذیل دعاپڑھیں:

'' أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ."(اسوۂ رسول اکرم ﷺ)

2۔ جس کو نظرِبد لگ جائے تواس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قولِ مبارک سے دم کیا جائے : "بِسْمِ اللهِ اَللّٰهُمَّ أَذْهِبْ حرَّهَا وَبَردَهَا وَوَصْبَهَا".

ترجمہ :اللہ کے نام پر، اے اللہ تواس (نظربد)کے گرم وسرد کو اوردکھ درد کو دورکردے ۔ اس کے بعد یہ کلما ت کہے : "قُمْ بِـإِذنِ اللهِ".

ترجمہ : اللہ کے حکم سے کھڑا ہو جا ۔(حصن حصین )

3۔ نظر بد دور کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جس آدمی کے بارے میں معلوم ہوکہ اس کی نظر لگی ہے، اُسے وضو کرایا جائے اور اُس کے استعمال شدہ پانی کو کسی برتن میں جمع کرلیا جائے اور پھر جسے نظر لگی ہے اُس پانی سے اُس کو غسل کرا یا جائے۔جیساکہ احادیثِ مبارکہ میں اس کا طریقہ مذکور ہے،ذیل میں مشکاۃ شریف سے وہ روایت اور اس کی تشریح نقل کی جاتی ہے:

"حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : نظر بد حق ہے، یعنی نظر لگنا ایک حقیقت ہے اگر تقدیر پر سبقت لے جانے والی کوئی چیز ہوتی تو وہ نظر ہی ہوتی اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو تم دھو دو ۔ (مسلم )''۔

''اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے ۔" کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت عرب میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کو نظر لگتی تھی اس کے ہاتھ پاؤں اور زیر ناف حصے کو دھو کر وہ پانی اس شخص پر ڈالتے تھے جس کو نظر لگتی تھی اور اس چیز کو شفا کا ذریعہ سمجھتے تھے ،اس کا سب سے ادنیٰ فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اس ذریعہ سے مریض کا وہم دور ہو جاتا تھا ۔چناں چہ رسول کریم ﷺ نے اس کی اجازت دی اور فرمایا کہ اگر تمہاری نظر کسی کو لگ جائے اور تم سے تمہارے اعضاء دھو کر مریض پر ڈالنے کا مطالبہ کیا جائے تو اس کو منظور کر لو"۔

نیز دوسری روایت میں ہے:

" حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن سہل ابن حنیف کہتے ہیں کہ (ایک دن ) عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (میرے والد ) سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہاتے ہوئے دیکھا ۔ تو کہنے لگے کہ اللہ کی قسم (سہل کے جسم اور ان کے رنگ و روپ کے کیا کہنے ) میں نے تو آج کے دن کی طرح (کوئی خوب صورت بدن کبھی ) نہیں دیکھا ۔ اور پردہ نشین کی بھی کھال (سہل کی کھال جیسی نازک وخوش رنگ ) نہیں دیکھی ۔ ابوامامہ کہتے ہیں کہ (عامر کا ) یہ کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا (جیسے ) سہل کو گرا دیا گیا (یعنی ان کو عامر کی ایسی نظر لگی کہ وہ فوراً غش کھا کر گر پڑے )، چناں چہ ان کو اٹھا کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور عرض کیا گیا کہ " یا رسول اللہﷺ ! آپ سہل کے علاج کے لیے کیا تجویز کرتے ہیں ؟ اللہ کی قسم یہ تو اپنا سر بھی اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سہل کی حالت دیکھ کر فرمایا کہ کیا کسی شخص کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ اس نے ان کو نظر لگائی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ( جی ہاں ) عامر بن ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ہمارا گمان ہے کہ انہوں نے نظر لگائی ہے، راوی کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ سن کر ) عامر کو بلایا اور ان کو سخت سست کہا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالنے کے درپے ہوتا ہے! تم نے سہل کو برکت کی دعا کیوں نہیں دی؟ ( یعنی اگر تمہاری نظر میں سہل کا بدن اور رنگ و روپ بھا گیا تھا تو تم نے یہ الفاظ کیوں نہ کہے "بَارَکَ اللهُ عَلَیْکَ" تاکہ ان پر تمہاری نظر کا اثر نہ ہوتا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر کو حکم دیا کہ ( تم سہل کے لیے اپنے اعضاء کو ) دھوؤ اور اس پانی کو اس پر ڈال دو ، چناں چہ عامر نے ایک برتن میں اپنا منہ ہاتھ کہنیاں گھٹنے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے پورے اور زیر ناف جسم ( یعنی ستر اور کولھوں ) کو دھویا اور پھر وہ پانی جس سے عامر نے یہ تمام اعضاء دھوئے تھے سہل پر ڈالا گیا ، اس کا اثر یہ ہوا کہ سہل فوراً اچھے ہو گئے اور اٹھ کر لوگوں کے ساتھ اس طرح چل پڑے، جیسے ان کو کچھ ہوا ہی نہیں تھا ( شرح السنتہ مؤطا امام مالک ) "۔

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ علماء کے نزدیک نظر لگانے والے کے وضو کی صورت یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں یہ تحقیق ہو کہ اس نے نظر لگائی ہے کہ اس کے سامنے کسی برتن یعنی پیالہ وغیرہ میں پانی لایا جائے اس برتن کو زمین پر نہ رکھا جائے پھر نظر لگانے والا اس برتن میں سے ایک چلو پانی لے کر کلی کرے اور اس کلی کو اسی برتن میں ڈالے پھر اس سے پانی لے کر اپنا منہ دھوئے پھر بائیں ہاتھ میں پانی لے کر دائیں کہنی اور دائیں ہاتھ میں پانی لے کر بائیں کہنی دھوئے اور ہتھیلی و کہنی کے درمیان جو جگہ ہے اس کو نہ دھوئے پھر داہنا پیر اور پھر اس کے بعد بایاں پیر دھوئے، پھر اسی طرح پہلے داہنا گھٹنا اور بعد میں بایاں گھٹنا دھوئے اور پھر آخر میں تہبند کے اندر زیر ناف جسم کو دھوئے اور ان سب اعضاء کو اسی برتن میں دھویا جائے، ان سب کو دھونے کے بعد اس پانی کو نظر زدہ کے اوپر اس کی پشت کی طرف سے سر پر ڈال کر بہا دے ۔

واضح رہے کہ اس طرح کا علاج اسرار و حکم سے تعلق رکھتا ہے جو عقل وسمجھ کی رسائی سے باہر کی چیز ہے ؛ لہذا اس بارے میں عقلی بحث کرنا لا حاصل ہے"۔(مشکاۃ المصابیح - مظاہر حق)فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144004201250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

13/10/2021

Nyce

06/10/2021

*جنگ یمامہ*

مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی ۔۔۔ جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی
اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا ۔۔۔
خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے :
لوگو ! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے ، اہل بدر ہوں
یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"
بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے :
مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"

صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے ۔۔۔

13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو ۔۔۔
اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔
یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی نہ کبھی بعد میں لڑی"
اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر ، احد ، خندق ، خیبر ، موتہ وغیرہ صرف 259
صحابہ کرام شہید ھوئے تھے ۔۔۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔

اے قوم ! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی
اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم میں مشہور تھے
اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا :::
اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"
چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی ۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوں میں آخری خطبہ دیا:
والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"

اے قوم ! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی اہمیت معلوم نہ ہوئی۔۔۔

وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا ۔۔۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی دیواریں مثل قلعہ کے تھیں
کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے ،
*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"*
اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر
منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں چھلانگ لگا دی
قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!
ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا
ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ
کو کاٹ کر رکھ دیا

*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ ،،، تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا دفاع کیا ہے ۔۔۔

کاش تمہیں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔

قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے
پس ہر صاحب ایمان کے ذمہ ہے کہ وہ
اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو.
اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن
خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو ،،، آخر میں میری آپ سب سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق و قربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس تحریر کو آگے منتقل کرنے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کیجئے۔
انشااللہ تعالی حضور ﷺ
خاتم النبین
خاتم المرسلین

کی عزت حرمت اور أبرو کی خاطر جاگتے رھیں کیونکہ اسی میں نجات ھے

کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ھم تیرے ھیں

یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ھیں.

06/10/2021

M***i Tariq Masood JHELUM Pohanch gaye ! | Engineer Ali Mirza vs M***i Tariq Masood Munazara

انجیئنرمحمدعلی مرزا کی امیدوں پر پانی پھر گیا
انجینئر نے دعویٰ کیا تھا کہ مفتی طارق مسعود کبھی بھی اس سے گفتگو کرنے جہلم نہیں آئیں گے اور یہ کہ ان کا نہ آنا میری کرامت ہوگی لیکن مفتی طارق مسعود صاحب جہلم پہنچ گئے
انجینئر کے چیلنجز ، مفتی صاحب کے جوابات اور جہلم میں انٹری پر میسج ٹی وی کی زبردست ویڈیو ضرور ملاخطہ کریں
M***i tariq masood and merza anjenir

30/09/2021
27/09/2021

👈 *عزت تو اللهﷻ نے اپنے دین میں رکھی ہے* 👉

کچھ عرصہ قبل گلوکار شہزاد راۓ اپنے بارے میں گفتگو کرتے ہوۓ بڑے فخر سے کہہ رہا تھا
کہ کنسرٹ میں” ہمیں سننے ہزاروں لوگ آجاتے ہیں ۔
بازار میں جائیں تو ان گنت نگاہیں ہمارا تعاقب کرتی ہیں ۔
نئ البم آۓ تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہے۔
جب ہم کوئ گانا پبلک میں گاتے ہیں تو ایک دنیا ہمارے ساتھ جھوم جھوم کر گانے لگتی ہے
لیکن
اور پھر اس کےساتھ ہی گلوکار کا لہجہ افسردە ہوگیا
اور اس نے ایک عجیب دکھ بھرے لہجے میں کہا
لیکن لوگ دل سے عزت نہیں کرتے۔
ہم بہت حیران ہوۓ
اور پوچھا کہ وە کیسے؟
لوگ تو تمہارے اور بہت سے دوسرے فنکاروں کے دیوانے ہیں۔
شہزاد راۓ ایک سمجھدار فنکار ہے
اور بہت سےدوسرے شوبز لوگوں کے بر عکس عقلمند اور حقیقت پسند بھی ۔
اس پر ہنس کر کہنے لگا میں تمہیں ایک سچا واقعہ سناتا ہوں۔
بات تمہاری سمجھ میں آجاۓ گی۔
اور واقعی شہزاد راۓ کی کہانی سن کر بات ہماری سمجھ میں آگئ۔
آپ بھی سنئے اسی کی زبانی۔
شاید بہت سی گرە کھل جائیں ۔
ایک دفعہ پنجاب کے ایک بہت بڑے زمیندار کے گھر پر فنکشن تھا۔ غالبا" زمیندار صاحب کے بیٹے کی شادی تھی۔ مجھ سمیت کئ دوسرے فنکاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جس کو بھی بلایا وە پہنچا کہ پیسہ منہ مانگا دیا جا رہا تھا۔ کئ چھوٹی موٹی اپوائنٹمنٹ چوہدری صاحب کی فنکشن میں شرکت کے لیۓ کینسل کی گیئں۔ سب کو پیسہ ہی اتنا بھرپور مل رہا تھا۔ بہرحال پورا طائفہ چوہدری صاحب کے ہاں پہنچ گیا۔ فنکشن فیصل آباد کے علاقے میں ایک گائوں میں زمیندار صاحب کی قلعہ نما حویلی میں تھا۔ وہاں جاتے ہوۓ جو تھوڑے بہت خدشات تھے وە اس وقت دور ہوگۓ جب چوہدری صاحب بہ نفس نفیس ہمارے استقبال کو آۓ۔ اور حویلی کے ہی ایک سیکشن کی بالائ منزل پر ہمارے قیام کا اس قدر شاندار بندوست کیا گیا کہ کیا کسی فائو سٹار ہوٹل میں ہوگا۔ رات فنکشن پر بھی بہت سی سیاسی اور سماجی شخصیات مدعو تھیں جنکے سامنے گا کر ہمیں خود اپنی عزت و احترام کا مزید احساس اجاگر ہو۔ زمیندار صاحب کے کارندوں نے بھی ہماری آئو بھگت میں کوئ کسر نہ آٹھا رکھی۔ رات گۓ فنکشن ختم ہونے کے بعد جب ہم سونے کے لیۓ گۓ تو ہم خود اپنی نظروں میں پہلے سے کہیں زیادە قدآور ہو چکے تھے۔
میری آنکھ علی الصبح کھل گئ۔ میں اٹھ کر کھڑکی کے پاس آکھڑا ہوا اور باہر کے دل فریب منظرکا نظاە کرنے وہیں کھڑا ہو گیا ۔ گائوں والے تو سحر خیزی کے عادی ہوتے ہیں ۔ باہر بہت سے لوگ رات کی فنکشن کا سامان سمیٹنے میں مصروف تھے۔ میں انہیں دیکھ ہی رہا تھا کہ دوسری جانب سے چوہدری صاحب بہ نفس نفیس خود ہاتھ میں ایک سٹک تھامے آتے نظر آۓ۔ غالبا" باغیچے میں مارننگ واک سے واپس آرہے تھے ۔ میں اس منظر سے محظوظ ہی ہو رہا تھا کہ چوہدری صاحب کی آواز سنائ دی
" اوۓ رحمان !؂ کنجراں دے چاۂ ناشتے دا انتظام تے ٹھیک ہو گیا نا"
" ہاں چوہدری صاحب۔ تساں فکر نہ کرو۔ کوئ شکایت دا موقع نہ مل سی"
اور پھر چوہدری صاحب نے جو ہم کنجروں کے لیۓ کافی فکر مند تھے
مزید تاکید کرتے ہوۓ فرمایا٬
" ہاں بھئی اے کنجر ہمارے مہمان ہیں
اور میرے پتر کی شادی پر آئے ہیں ۔ خوش خوش واپس جانے چاہئیں "
تو یہ تھی ہماری عزت ان کی نظر میں ۔
ہمیں ڈھیروں پیسہ ملا۔
آؤ بھگت بھی بہت ہوئی
جو شاید وہاں کی ریت تھی
لیکن انکی نظروں میں ہم فقط کنجر ہی تھے۔
اور کنجر تو کنجر ہی ہو تا ہے
اس کی عزت نہیں ہوتی

_عزت تو اللهﷻ نے اپنے دین میں رکھی ہے لیکن ہم لوگ دوسرے کاموں میں تلاش کرتے ہیں_

Address

Karachi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Malahim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Malahim:

Share