15/01/2026
اہل ذوق کیلئے ایک عظیم الشان خوش خبری ۔
یہ بات کسی بھی اہل علم سے مخفی نہیں ہے کہ مظبوط علمیت کے لئے فنون مروجہ ایک قوی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے، اگر کسی عالم کا فنون مروجہ پر مظبوط گرفت ہو تو ان کے لیے قرآن و حدیث سے استفادہ کرنا آسان ہو جاتا ہے، وہ قرآن وحدیث میں انتہائی باریک بینی کے ساتھ غوطہ زن ہوتا ہے، اور ان دونوں سمندروں سے گہری وابستگی اختیار کرکے انکی تہہ سے موتیاں نکال کر دنیائے علم کے سامنے پروتا ہے، اوراہل علم کے سامنے شاندار نکات پیش کرتا ہے
جو عالم ان فنون مروجہ سے ناواقف ہوتا ہے انکو قرآن وحدیث پر وہ مظبوط گرفت کبھی بھی حاصل نہیں ہوسکتی ہے جو فنون کے ماہر کو حاصل ہو جاتی ہے چاہے وہ جتنا بھی جتن کریں ۔
اس لیے زمانہ قدیم سے علماء کا ان فنون کے ساتھ وابستگی اظہر من الشمس ہے جو قریبی زمانے تک آب و تاب سے جاری رہا۔
لیکن کچھ عرصے سے علماء اور طلباء کا فنون سے وابستگی کم ہوتا جارہا ہے جو علم اور علماء کے لیے انتہائی نقصان کا باعث ہے ۔
اس نقصان کے رفع کرنے کی فکر میں ہم نے فنون مروجہ کے انتہائی ماہر اور ان تمام فنون کے اجراء اور تسہیل پر تصنیفات کرنے والا مصنف حضرت مولانا مفتی ارشاد الرحمٰن المعتصم صاحب اٹک والے کو چند دن کے لیے کراچی میں مدعو کیا ہے، اہل ذوق ان ایام معدودہ کو اپنے لیے غنیمت سمجھ کر اس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی کریں، شائد ان ایام معدودہ کی محنت اور لگن ہمارے پاس علم کا وہ ذوق واپس پلٹا دے جو کبھی ہمارے اسلاف کے پاس ہوا کرتا تھا ۔
*و ما ذالك علي الله بعزيز۔*