Survey Team Punjab Transpoters BWP

Survey Team Punjab Transpoters BWP The Plateform of Survey Team Punjab Transporters Muhafiz Transporters Genral bus stands issues in all over the Punjab Then Pakistan

ہیلمٹ نہ پہننے کی سزا موت نہیں ہونی چاہیےکالم: عبدالکریم طاہرسڑک پر قانون کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے، مگر قانون نا...
16/08/2026

ہیلمٹ نہ پہننے کی سزا موت نہیں ہونی چاہیے

کالم: عبدالکریم طاہر

سڑک پر قانون کی پابندی ہر شہری کی ذمہ داری ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ قانون کا مقصد شہریوں کی حفاظت ہے، ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا نہیں۔

لودھراں کی تحصیل دنیاپور کے علاقے نوترا میں پیش آنے والے کاشف کے افسوسناک واقعے نے اسی بنیادی سوال کو جنم دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کاشف نامی سیکیورٹی گارڈ ڈیوٹی سے واپس اپنے گھر جا رہا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر ہیلمٹ نہیں پہن رکھا تھا۔ الزام ہے کہ ٹریفک اہلکار امجد نے اسے روکنے کے بجائے تعاقب کیا اور چلتی موٹر سائیکل کو مبینہ طور پر لات ماری، جس کے نتیجے میں کاشف موٹر سائیکل پر قابو نہ رکھ سکا اور کھمبے سے جا ٹکرایا۔

شدید زخمی حالت میں اسے ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ اگر یہ الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو معاملہ محض ایک ٹریفک خلاف ورزی کا نہیں رہتا بلکہ شہری کی جان کو مبینہ طور پر خطرے میں ڈالنے کا سنگین معاملہ بن جاتا ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال ضرور اٹھتا ہے: اگر کسی شہری نے ہیلمٹ نہیں پہنا تو قانون کیا کہتا ہے؟

قانون چالان کا اختیار دیتا ہے، روکنے اور قانونی کارروائی کا طریقہ موجود ہے، مگر کسی شہری کو ایسے طریقے سے روکنا جس سے اس کی جان خطرے میں پڑ جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔

کاشف شاید اپنے بچوں کے لیے رزق کمانے نکلا تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ گھر سے نکلتے وقت یہ اس کا آخری سفر ثابت ہوگا۔ ایک گھر کا کفیل دنیا سے چلا گیا، بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور ایک خاندان ایسی محرومی سے دوچار ہوگیا جس کا ازالہ کسی چالان، جرمانے یا معافی سے ممکن نہیں۔

تاہم اس واقعے پر جذباتی فیصلے کے بجائے شفاف، غیرجانبدار اور مکمل تحقیقات ضروری ہیں۔ عینی شاہدین کے بیانات، جائے وقوعہ کے شواہد، سی سی ٹی وی یا دستیاب ویڈیو، میڈیکل رپورٹ اور دیگر متعلقہ ریکارڈ کی روشنی میں یہ طے کیا جانا چاہیے کہ اصل میں کیا ہوا۔

اگر تحقیقات میں ٹریفک اہلکار پر عائد الزام ثابت ہوتا ہے تو قانون کے مطابق سخت کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ یہ واضح ہو کہ وردی قانون کی طاقت ضرور دیتی ہے، مگر شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے کا اختیار نہیں۔

اور اگر تحقیقات میں الزام ثابت نہ ہو تو حقائق بھی عوام کے سامنے واضح کیے جانے چاہئیں، کیونکہ انصاف کا تقاضا صرف سزا نہیں بلکہ سچ سامنے لانا بھی ہے۔

ہیلمٹ پہننا ضروری ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی بھی ضروری ہے۔ مگر قانون کی عمل داری کا اصل حسن یہ ہے کہ قانون نافذ کرتے ہوئے بھی انسانی جان کی حرمت مقدم رہے۔

کاشف واپس نہیں آ سکتا، لیکن اس واقعے سے ایسا سبق ضرور نکلنا چاہیے کہ آئندہ کسی شہری کو روکنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار نہ کیا جائے جو ایک معمولی ٹریفک خلاف ورزی کو زندگی اور موت کے سانحے میں بدل دے۔

سوال صرف یہ نہیں کہ کاشف نے ہیلمٹ کیوں نہیں پہنا؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ شہریوں کو قانون پر عمل کرانے کا طریقہ کتنا محفوظ، مہذب اور انسانی ہے؟

اتحاد پریس کلب بہاولپور — عوام کی آواز
عبدالکریم طاہر

9 روز بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم، گڈز ٹرانسپورٹرز نے 45 روز کے لیے احتجاج موخر کر دیابہاولپور: 9 روز سے جاری ٹرانسپورٹ...
16/08/2026

9 روز بعد ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال ختم، گڈز ٹرانسپورٹرز نے 45 روز کے لیے احتجاج موخر کر دیا

بہاولپور: 9 روز سے جاری ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال بالآخر ختم ہوگئی، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنا احتجاج 45 روز کے لیے موخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

پنجاب ٹرانسپورٹر محافظ کے چیئرمین محمد زبیر شہزادہ نے ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے خاتمے سے کاروباری سرگرمیوں، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور عوامی مشکلات میں کمی آنے کی توقع ہے۔

محمد زبیر شہزادہ کے مطابق حکومت کی جانب سے گڈز ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر اور جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹرز کو امید ہے کہ حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے عملی اقدامات کرے گی۔

ٹرانسپورٹر نمائندوں کا کہنا ہے کہ 45 روز کی مہلت کے دوران حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مسائل کا مستقل حل تلاش کیا جائے گا، تاہم حکومتی اقدامات اور مذاکرات کی پیش رفت آئندہ صورتحال کا تعین کرے گی۔

رپورٹ: عبدالکریم طاہر



















14/07/2026

*وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا*

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پیر سوہاوہ مونال ریسٹورینٹ گرانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن سٹی کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے حکم امتناع بھی ختم کردیا۔

آئینی عدالت نے کہا کہ ملکیت کا فیصلہ ٹرائل کورٹس عدالتی آبزرویشنز سے متاثر ہوئے بغیر کریں گی جب کہ انتظامی معاملات کا فیصلہ ریگولیٹری باڈیز کریں گی۔

وفاقی آئینی عدالت نے ٹرائل کورٹس کو جلد از جلد کیسز کے فیصلوں کی ہدایت بھی کردی۔

دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کےفیصلے میں بہت سے نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا، کیس دائر کرنے یا نظرثانی دائر کرنے پر بھی عدالت نے غصہ کیا، ہم نے جذباتی فیصلہ نہیں کرنا۔

14/07/2026
فردوس جمال نامی پی ٹی وی کے ایک چوانی ایکٹر ن انٹرویو کے دوران یہ کہا ہے کہ سلطان راہی نے فلم انڈسٹری برباد کی ۔ اچھا جی...
14/07/2026

فردوس جمال نامی پی ٹی وی کے ایک چوانی ایکٹر ن انٹرویو کے دوران یہ کہا ہے کہ سلطان راہی نے فلم انڈسٹری برباد کی ۔ اچھا جی ؟ تو پھر 25 سال تک تن تنہا اپنے کندھوں پر فلم انڈسٹری کو کس نے اٹھا کر رکھا۔ وہ کون تھا کہ جو دنیا سے رخصت ہوا تو اسٹوڈیوز کو تالے لگ گئے۔ فلم ٹیکنیشنز بیروزگار ہو گئے۔ آپ کی اردو فلموں کے سٹارز ندیم صاحب ہوں یا محمد علی صاحب۔ وحید مراد ہوں یا غلام محی الدین صاحب۔ سب کے سب تو سلطان راہی کے پیچھے سیکنڈ رول کرتے تھے۔ عابد علی جیسے ٹی وی کے سپراسٹار سلطان راہی کے سامنے چھوٹے موٹے کریکٹرز پلے کرتے تھے۔ آپ کے پی ٹی وی سے ہی شہرت پانے والے جاوید شیخ سلطان راہی کی فلموں میں سیکنڈ یا تھرڈ کریکٹرز قبول کرتے رہے۔ پھر وہ کون تھا جو سب سے ضروری تھا اور تم کون ہو جو فلم "ماجھو" میں سلطان راہی کے سامنے معمولی سے کردار میں تھا۔
گھٹیا انسان کیا تم نے جب سلطان راہی کے پیچھے کھڑے ہو کر اداکاری کی تو کیا تمہاری اتنی جرات تھی کہ تم یہ بکواس سلطان راہی کے سامنے کر سکو۔ یا اسکے بعد سلطان راہی کی زندگی میں ایسی مغلظات بک سکو ؟ تم نے کیا سمجھا کہ آج سلطان راہی منوں مٹی تلے چلا گیا ہے تو تم کچھ بھی بکواس کر سکتے ہو تو یہ تمہاری سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ سلطان راہی منوں مٹی نیچے نہیں بلکہ پاکستان کے ہر شخص کے دل میں زندہ ہے۔ اسکی محبت کا جادو آج بھی سر چڑھ کر بولتا ہے۔ ایک پوری نسل ختم ہو کر سلطان راہی سے محبت اپنی اگلی نسل کے دلوں میں منتقل کر چکی ہے۔ سلطان راہی کے دیوانے آج بھی کروڑوں کی تعداد میں ہیں جو تمہاری زبان تمہارے تالو سے کھینچ سکتے ہیں۔
فلم انڈسٹری میں تمہاری اپنی کیا خدمات ہیں۔ ؟ تمہارا اپنا کیا کنٹری بیوشن ہے۔ ؟ سلطان راہی تو وہ ہے جس کی درجنوں فلمیں ڈائمنڈ جوبلی سے ہم کنار ہیں سینکڑوں فلمیں گولڈن جوبلی اور پلاٹینم جوبلی کامیاب ہیں اور تمہاری ایک فلم "کنوارا باپ" اور وہ بھی بدترین ناکامی کا شکار۔ خیر چھوڑو فلمی مقابلہ۔ کہاں وہ راجہ بھوج کہاں تم گنگو تیلی۔ نہ تم فلم میں کامیاب نہ ٹی وی پر ۔ چھوڑو یہ سب باتیں ۔ صرف دلیل سے ان سوالوں کا جواب ہی دے دو۔ کہ سلطان راہی کے علاوہ پاکستان میں وہ کون سا اداکار ہے جس نے ۔۔۔
۔ پانچ سو سے زائد فلموں میں ٹائٹل ۔۔ ہیرو کا کردار ادا کیا ہو۔
۔ پاکستان میں وہ کون سا اداکار ہے جس نے 804 فلموں میں فن اداکاری کے جوہر دکھائے ہوں۔
۔ پاکستان میں وہ کون سا اداکار ہے جو مرتے دم تک عروج پر رہا۔ وفات کے وقت جس کی کی چالیس سے زائد فلموں کی شوٹنگ جاری ہو؟

14/07/2026

پاکستانی ڈراموں میں بولڈ مناظر پر مشی خان کا اظہارِ تشویش، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

کراچی: معروف اداکارہ مشی خان نے پاکستانی ٹیلی ویژن ڈراموں میں بولڈ مناظر کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خاندانی تفریح کے نام پر نشر کیے جانے والے ڈراموں کا انداز تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مشی خان، جو سماجی، قومی اور شوبز سے متعلق معاملات پر سوشل میڈیا پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتی رہتی ہیں، نے حال ہی میں انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے پاکستانی ڈراموں کے بدلتے ہوئے مواد پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ فلموں، ڈراموں، اسٹیج شوز اور سوشل میڈیا پر غیر مناسب مواد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق بھارتی فلموں اور گانوں میں بھی یہ رجحان موجود ہے، تاہم اب پاکستانی ڈرامے بھی اسی سمت بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں، جو باعثِ تشویش ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈراموں میں میاں بیوی کے درمیان گلے ملنے جیسے مناظر اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل میں بیڈروم سینز یا بوس و کنار جیسے مناظر بھی ڈراموں کا حصہ بن سکتے ہیں، جبکہ اس حوالے سے سنجیدہ بحث کم دکھائی دیتی ہے۔

مشی خان نے زور دیا کہ پاکستانی ڈرامے عموماً گھروں میں پورے خاندان اور بچوں کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں، اس لیے ان کے مواد کی نوعیت دیگر ذرائع ابلاغ سے مختلف ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے مناظر جو ماضی میں عام نہیں تھے، اب ڈراموں میں شامل کیے جا رہے ہیں، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اداکارہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء دیکھنے میں آئیں۔ متعدد صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خاندانی ڈراموں میں مواد کے انتخاب میں احتیاط برتی جانی چاہیے، جبکہ بعض صارفین نے اس معاملے پر مختلف نقطۂ نظر بھی پیش کیا۔

مجموعی طور پر مشی خان کی ویڈیو نے پاکستانی ڈراموں کے بدلتے رجحانات اور خاندانی تفریح کے معیار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Address

192B Modal Town B
Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Survey Team Punjab Transpoters BWP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share