22/01/2026
بہاولپور: گرین لائن بس میں شدید رش، طالبہ گرنے کا واقعہ، متبادل انتظامات کا مطالبہ
بہاولپور میں مریم نواز کے گرین لائن منصوبے کے تحت چلنے والی بسوں میں شدید رش کے باعث طلبہ و طالبات کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پنجاب ٹرانسپورٹرز سروے ٹیم اور محافظ ٹرانسپورٹرز کے چیئرمین محمد زبیر شہزادہ نے حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لائن منصوبے کی ایک بس جو ڈیرہ بکھا سے لودھراں تک چلتی ہے، اس کا اسٹاپ اسلامیہ یونیورسٹی کے مین گیٹ کے ساتھ بنایا گیا ہے، جہاں طلبہ کی بڑی تعداد روزانہ سفر کرتی ہے۔
محمد زبیر شہزادہ کے مطابق یونیورسٹی کے سامنے طلبہ کا رش ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ اس مقام پر پہلے ہی سپیڈو بس سروس کا اسٹاپ موجود تھا۔ ڈیرہ بکھا سے آنے والی گرین لائن بس پہلے ہی مکمل طور پر بھری ہوتی ہے، جس میں بیٹھنا تو دور کی بات، لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے کھڑے ہونے کی بھی گنجائش نہیں رہتی۔ اسی شدید رش کے باعث گزشتہ روز ایک طالبہ بس میں چڑھتے ہوئے گر گئی، جو تشویشناک امر ہے۔
انہوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ یا تو اسلامیہ یونیورسٹی سے لودھراں کے لیے الگ بس اسٹاپ یا خصوصی سروس کا انتظام کیا جائے، یا پھر اس روٹ پر بسوں کی تعداد میں فوری اضافہ کیا جائے تاکہ طلبہ و طالبات کو محفوظ اور باعزت سفری سہولت میسر آ سکے۔
محمد زبیر شہزادہ نے مزید کہا کہ اگر حکومت ان اقدامات پر عملدرآمد نہیں کر سکتی تو کم از کم بہاولپور شہر کو اس کی سابقہ سپیڈو بس سروس واپس دی جائے، تاکہ شہریوں اور طلبہ کو مشکلات سے نجات مل سکے۔
شہری حلقوں نے بھی حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے رش اور ممکنہ حادثات کے پیش نظر فوری عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ قیمتی جانوں کو خطرے سے بچایا جا سکے